خاندان فنڈ

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم “رزق میں برکت چاہتا ہوں” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: “صلہ رحمی اختیار کر لو اللہ تمہارے رزق  میں برکت عطا فرما دے گا۔

حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دور خلافت میں کچھ عہدے اور منصب اپنے رشتے داروں کو بھی عطا کئے جب ایک دفعہ ان سے پوچھا گیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کبھی کسی رشتہ دار کو کوئی عہدہ یا منصب عطا نہیں کیا تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا “انہوں نے خدا کے خوف سے ایسا نہیں کیا تھا اور یقین جانو میں خدا کے خوف کی وجہ سے ہی ایسا کر رہا ہوں کیونکہ قرآن میں جابجا قرابت داروں کا خیال کرنے کا حکم ہے۔

آپ کبھی غور کرلیں آپ کو ہر وہ خاندان پھلتا پھولتا اور محبتوں سے لبریز نظر آئے گا جہاں صلہ رحمی کا پاس رکھا جائے گا، جہاں بہن بھائی ایک دوسرے کو یک جان دو قالب سمجھیں گے۔ سب ایک دوسرے کی اصلاح کے ساتھ ساتھ اس کے حالات سے بھی پوری طرح باخبر رہیں گے۔

میں نے ذاتی طور پر بہت سے ایسے خاندانوں کا مشاہدہ کیا ہے کہ جہاں رزق کی فراوانی اور خوشیوں کی ریل پیل نظر آتی ہے تحقیق کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ وہاں “صلہ رحمی” کی جاتی ہے۔ آج سے 80 سال پہلے امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں پانچ پروفیسرز نے تحقیق شروع کی کہ کون لوگ سب سے زیادہ خوش رہتے ہیں اور اس کے لیے انہوں نے تین نسلوں پر 80 سال تک تحقیق کی بالآخر 2017 میں انہوں نے اس تحقیقاتی رپورٹ کو پبلک کیا جس میں بہت سے خاندانوں کے سینکڑوں لوگوں پر مشتمل کئی سال تک تحقیق کی گئی تھی تو معلوم ہوا کہ وہ لوگ اور خاندان سب سے زیادہ خوش رہتے ہیں جن کے آپس کے تعلقات سب سے اچھے ہیں۔

آپ کبھی “میمن کمیونٹی” کو دیکھ لیں آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ اپنی کمیونٹی کو کتنا سپورٹ کرتے ہیں غریبوں کا خاص خیال رکھتے ہیں اور انھوں  نے اپنی کمیونٹی کے لوگوں کے لیے اسپتال سے لے کر اسکول اور بس سروس تک مہیا کر رکھی ہے۔ اسی طرح آغا خانی اور بوہری کمیونٹی کو بھی دیکھ لیں اور پھر خود ہی ان کے پھلنے پھولنے کی شرح بھی دیکھیں  تو آپ حیران رہ جائیں گے۔

وقتا فوقتا   مجھے اپنے خاندان میں بھی اور دیگر خاندانوں میں تو بہت زیادہ  اس کمی کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ اگرچہ کئی لوگ ہیں جو اپنا مال بے تحاشہ غریب اور مجبور رشتہ داروں پر لٹاتے ہیں مگر اصل ضرورت “خاندان فنڈ” کی ہے۔

حالیہ بارشوں میں، سخت گرمیوں کے دنوں میں، اللہ نہ کرے مگر کسی کی فوتگی  پر، کسی خاص بیماری کے علاج معالجے کے لیے۔ بچے،  بچیوں کی شادی بیاہ کے معاملات میں، خاندان کے نادار بچوں کے لئے یا  پھر  کسی بھی چھوٹے موٹے کاموں میں تعاون اور روزگار کے سلسلے میں ہر خاندان میں ایک “خاندان فنڈ” ضرور ہونا چاہیے۔ اس “خاندان فنڈ” کی باقاعدہ ممبر شپ ہو،  خاندان  کے بڑوں پر مشتمل تین یا چار رکنی کمیٹی ہو اور اس کا  ایک باقاعدہ فنانشل سیکریٹری  ہو۔  بچہ  ہو، بوڑھا ہو، جوان ہو، مرد ہو یا عورت سب کے سب اپنی استطاعت کے مطابق ہر مہینے اس میں فنڈ میں  رقم جمع کرواتے رہیں، خاندان کے مخیر حضرات اپنی جیب کے اعتبار سے اس میں تعاون کریں تو یقینا ایک مضبوط اور کارآمد “خاندان  فنڈ” قائم ہوسکتا ہے۔

پچھلے دنوں شدید بارشوں کی وجہ سے لوگوں کا فرنیچر اور قالین سمیت سینکڑوں قیمتی اشیاء کا نقصان ہوا اس سے بھی زیادہ لوگوں کے فریج اور پانی کی  موٹریں پانی چلے جانے کی وجہ سے خراب ہوئی ہیں لیکن ایک بہت بڑی تعداد میں سفید پوش لوگ ایسے ہیں جن کے لیے فریج ٹھیک کروانا یا پانی کی جلی ہوئی موٹر دوبارہ خریدنا خاصا مشکل کام ہے۔ اسی طرح اچانک کسی خاندان پر کوئی ناگہانی آگئی یا کسی بیماری کے سبب ہسپتال میں ایڈمٹ ہونا پڑا تو  وہ اپنی سفید پوشی کا گریبان کس کے آگے چاک کرے گا؟ کسی بچے کا اسکول یا یونیورسٹی میں داخلہ ہونا ہے لیکن یکمشت اتنی رقم جمع کروانا والدین کے لئے ممکن نہ ہو تو “خاندان فنڈ” اس میں کارآمد ہو سکتا ہے۔ ہے سخت گرمیوں میں خاندان کے ان  افراد کے گھروں میں ایک آدھ سولر کی پلیٹ لگوا دینا، جنریٹر یا  یو – پی –  ایس لینے یا بنوانے میں تعاون کرنا جو  اپنے گھروں میں بغیر لائٹس اورپنکھوں کے بیٹھے رہتے ہیں۔ پانی اور روزگار کے مسائل میں ان کے ساتھ تعاون کرنا خاندان  کے نوجوانوں کو بلا سود قرضہ دینا اور پھر ان سے یہ بات طے کر لینا کہ اس کاروبار میں منافع کے بعد آپ کو ہر مہینے پانچ فیصد منافع کی رقم میں سے اس  فنڈ میں جمع کروانا ہوں گے یا شادی بیاہ کے موقع پر جب اچانک کئی لاکھ روپے کی ضرورت پیش آتی ہے تو ان رشتے داروں کو شادی کے لیے فنڈز دے دینا اور خاص طور پر اگر خاندان میں کسی کا انتقال ہو گیا تو کسی ایک پر بوجھ پڑنے کے بجائے قبر، کفن دفن، میت گاڑی اور کھانا وغیرہ کے انتظامات اسی فنڈ سے پورے کیے جاسکتے ہیں۔

اس “خاندان  فنڈ” میں خاندان کے سفید پوش اور ضرورت مند لوگ فنانشل سیکریٹری کو خاموشی سے اپنی ضرورت کے لیے درخواست جمع کروائیں اور ساتھ ہی ساتھ اس کی ادائیگی کا طریقہ بھی اسی درخواست میں بیان کردیں۔ فنانشل سیکرٹری کمیٹی کے سینئر ممبران کے سامنے وہ  درخواست رکھے اور وہاں سے منظوری کے بعد ضرورت مند شخص کو رقم ادا کر دی جائے۔

اس کے بے شمار فوائد ہیں:

1) سب سے پہلے تو خاندانوں میں محبت، الفت، ایثاروقربانی اور بھائی چارے کی فضا پیدا ہوگی۔

2) خاندان کے سب لوگوں میں راہ خدا میں خرچ کرنے کا جذبہ بیدار ہوگا۔

3) خاندان کے سفید پوش اور ضرورتمند لوگ عزت اور سفید پوشی کے ساتھ باہر کے کسی شخص سے قرض لئے بغیر اپنی ضرورت عزت دار طریقے سے پوری کر پائینگے۔

ہر خاندان کے سربراہ پر مہینے میں کم از کم ہزار روپے خاتون خانہ پر پانچ سو روپے اور باقی بچوں، بہوؤں اور لڑکے لڑکیوں پر ان کی استطاعت کے مطابق فنڈ میں رقم جمع کروانا لازم ہو۔

سال کے آخر میں ایک آڈٹ رپورٹ سیکریٹری کی طرف سے ایک بند لفافے میں خاندان کے ہر گھرانے کو جاری کی جائے جس میں تمام آمدن اور اخراجات کا حساب ہو۔

کمیٹی سال میں دو دفعہ اسی مقصد کے لیے خاندان کو جمع کرے اور ان  سے اس فنڈ   میں بہتری اور ترقی کے لیے تجاویز و آراء لینے کا اہتمام بھی کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح وہ لوگ  جو کسی مشکل میں پھنس گئے تھے اور “خاندان فنڈ” کی وجہ  سے  ان کا مسئلہ حل ہوگیا تو وہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کے لئے اپنا تجربہ بھی شیئر کر سکتے ہیں۔

یہ میرے ذاتی خیالات ہیں لیکن میں چاہتا ہوں کہ کم از کم ایک ہی والدین کی وہ اولادیں جو پھل پھول رہی ہیں وہ اس “خاندان فنڈ” کو اپنے خاندان  میں ضرور قائم کرلیں اس سے معاشرے میں نہ صرف امن، چین اور سکون قائم ہو جائے گا بلکہ بہت سے معاشرتی مسائل خود بخود دم توڑ دیں گے۔ اگر آپ کو یہ تجویز پسند آئی  ہو تو بڑھ کر اپنے خاندان میں  یہ “خاندان فنڈ” کا قائم کر دیجئے اور دوسروں تک بھی اس نیکی کے خیالات کو ضرور پہنچائیے یقینا یہ بھی صدقہ جاریہ ہے۔

 

Vist us at www.hussaintibbenabawi.com,www.hussainwelfare.org,www.hussainpublishers.com.

WhatsApp 0092 300 2233220.