دنيا كے مشہور ترين ملحدين

 

ميں اپنى زندگى ميں موت كے سوا ہر چيز كى تيارى كرتا تھا، اور اب  جب ميں مرنے والا ہوں تو موت كے ليے تيار نہيں۔

 

تھامس ہوبس:

يہ ايك سياسى فلسفى تھا، مرتے وقت كہتا ہے: ’’ ميں اس وقت اندھيروں ميں گرا پڑا ہوں، كوئى مجھ سے پورى دنيا لے  لے اور صرف ايك دن زندگى دے دے۔

 

تھامس پین:

يہ اٹھارہویں صدی كا ملحد مصنف ہے جس نے  مرتے وقت کہا:

ميں اس وقت ايسے عذاب ميں ہوں كہ مجھے اكيلا نہ چھوڑنا اور بلا شبہ جو ميں نے كيا ہے ميں اسى عذاب كا مستحق ہوں، اگر آج ميرے پاس پورى كائنات ہوتى اور اس دنيا كے مثل ايك اور دنيا بھى ہوتى تو ميں اس تكليف كے بدلے دے ديتا۔ آج مجھے اللہ نظر آرہا ہے جبكہ ميں پورى زندگى شيطان كا چيلا بنا رہا۔

 

4- سر تھامس اسکاٹ:

’’يہ ایک انگریزی مشیر تھا جو 1594 ء میں فوت ہوا ، اور مرتے ہوئے كہہ رہا ہے: “لمحوں پہلے تک میں کسی معبود یا آگ کے وجود پر یقین نہیں رکھتا تھا ، لیکن اب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اصلی ہیں  اور اللہ كا وجود بھى ہے، اب  جبكہ میں عذاب کے راستے پر ہوں اور يہ اللہ كى عدالت ہے۔‘‘

 

5- والٹیئر:

يہ ایک فرانسیسی فلسفی ملحد تھا ، جس نے اپنے معالج ڈاكٹر فوکن کو مرتے وقت اپنی بات کی ہدایت کی تھی: “اگر تم مجھے چھ ماہ زندگى اور صحت اور دے سكو تو ميں تمہيں اپنے پاس موجود آدھى دولت سے نواز دوں گا ، اب ميں مر رہا ہوں اور جہنم ميں جا رہا ہوں!

 

6- نرس ولٹیئر:

اگر دنيا كى سارى دولت بھى یورپ کو دے دى جائے تو میں کسی ملحد کو نہیں دیکھنا چاہتا  ميں خود اس وقت تکلیف میں مبتلا ہوں اور پوری رات بخشش کے ليے چیخ رہا ہوں۔

 

7 – ڈیوڈ ہیوم:

يہ ایک سکاٹش مورخ  ملحد ہے جس نے 1776 ء ميں مرتے وقت چيختے ہوئے كہہ رہا تھا:

آگ نے مجھے اپنی شعلوں سے جلا دیا ”  وہ  اپنى موت كے وقت بہت مایوس تھا۔

 

8 – نیپولین بوناپارٹ:

فرانسیسی شہنشاہ ، جس نے اپنی بادشاہت كى بھوك کو پورا کرنے کے لئے لاکھوں افراد کو قتل کیا ، دنیا کی حکمرانی کو بہت  پسند کرتا تھا مرتے وقت كہنے لگا: “دیکھو ، میں اپنے وقت سے پہلے ہی مر   كر زمين کی اصل طرف لوٹ آیا ہوں ، حالانكہ میں سب سے بڑا فرانسيسى شہنشاہ ہوں، میں جس گڑھے میں پڑا ہوں اس ميں اور ہمیشہ کے باغ (جنت)کے درمیان بہت فرق ہے۔

 

9 – سر فرانسس نیوبرٹ:

يہ برطانوی ملحدين  کلب کا سربراہ  تھا اس نے اپنی موت کے وقت اپنے بستر کے چاروں طرف والوں کو بتایا:

مجھ سے یہ مت کہو کہ کوئی معبود نہیں ، کیوں کہ میں اب اس کی موجودگی میں ہوں ، اور مجھے یہ مت کہو کہ کوئی جہنم نہیں ہے ، کیوں کہ اب مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میں اس جہنم  میں پھسل رہا ہوں۔” اگر ميں ہزار برس بھى زندہ رہتا تو اس آگ كو جھٹلاتا رہتا اور اب ہزاروں سال بعد بھى مجھے اس آگ سے خلاصى ملنے والى نہيں، آہ آہ يہ آگ مجھے جلائے جا رہى ہے۔

 

10- کنگ چارلس IX:

يہ ایک فرانسیسی بادشاہ تھا  جس نے 1572 ء میں فرانس میں دسیوں ہزار پروٹسٹنٹ عیسائیوں کو مار ڈالا کیونکہ وہ کیتھولک مذہب میں نہیں تھے ۔

اس نے موت سے پہلے  اپنے ڈاکٹروں سے کہا:

میں دیکھ رہا ہوں کہ جن کو میں نے قتل کیا وہ میرے سامنے سے گزر رہے ہیں اور ان کے زخموں سے خون بہہ رہا ہے اور وہ میری طرف اشارہ کر رہے ہیں ، مجھے اپنا ٹھكانہ نظر آ رہا ہے ، میں نے ايسے گناہ كيے  جو ہمیشہ مجھے سزا ديتے رہيں گے۔

 

11- ڈیوڈ اسٹراس:

يہ  ایک جرمن قوم پرست ادیب تھا جو 1874ء میں فوت ہوا۔ مرتے ہوئے كہنے لگا:

میرے فلسفے نے مجھے ذليل كر ديا  اور ميں  اس وقت اپنے آپ كو دانتوں والی مشین کے جبڑے میں محسوس كر رہا ہوں جو مجھے کسى بھى لمحے کچل دے گى۔

 

12- امریکی میگزین “نیوز ویک” کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ، روسی کمیونسٹ جوزف  اسٹالن کی بیٹی سویتلانا اسٹالن نے اپنے والد کے انتقال کے وقت کی بات  كرتے ہوئے كہا:

میرے والد کی موت بہت  خوفناک تھی۔ اس نے اپنى موت كے لمحے  اچانک آنکھیں کھولیں پاگل اور غصيلى نظروں سے وہاں موجود لوگوں کی طرف ديكھا، اور  اپنے بائیں ہاتھ سے ہمارے اوپر اشارہ کیا کہ  كوئى چيز مجھے آگ ميں دھكيل رہى ہے، ايسى موت  احساس محرومی کی علامت ہے۔

 

13 _ انتون لیوی:

چرچ آف شیطان کے بانی اور “بائبل آف شیطان” کے مصنف ، جو 1997 میں فوت ہوا، روتے ہوئے کہا:

آہ ! يہ میں نے کیا کیا … میں نے ایک بہت بڑی غلطی کی ہے” وہ  بار بار اللہ تعالی سے مغفرت اور استغفار کررہا تھا !!

 

ماخذ :(العلمانية؛ للدكتور سفر الحوالي، والدكتور الصلابي)

 

دوستو!

يہ وہ چند مشہور ملحد تھے جو اللہ كے وجود كو ہى نہ مانتے تھے، اور مرتے وقت سب سے پہلے اللہ ہى كو پكارا، سبحانك يا ربي ما أعظمك۔۔۔ اے اللہ! پاك ہے تو تُو كس قدر عظمت و بڑائى والا ہے۔

كيا ہى خوب نقشہ كھينچا ہے قرآن نے:

{لَّـقَدْ كُنْتَ فِىْ غَفْلَـةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَـآءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيْدٌ} (ق: 22)

’’بے شک تو اس دن سے غفلت میں رہا آج جب  ہم نے تجھ سے تیرا پردہ دور کر دیا  تو تیری نگاہ آج بڑی تیز  ہوگئى ہے۔‘‘

عزيزو!

ياد ركھيے! جو شخص جس چیز پر زندہ رہتا ہے اسے موت بھى اسى پر آئے گى، اور جو شخص جس چیز پر مرتا ہے قيامت والے دن  اسے اسى حالت پر اٹھایا جائے گا ۔

*اللهم أخلص نياتنا و أحسن خواتيمنا ، آمين يارب العالمين*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔