*علامہ ابن باز کا دانشمندانہ فیصلہ*

 

 یہ اس دور کی بات ہے جن دنوں میں شیخ ابن باز جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ (مدینہ یونیورسٹی) کے چانسلر تھے.

ایک افریقی طالب علم کی شرارتوں اور جامعہ کے قوانین کی خلاف ورزیوں کے سبب وہاں کے تمام اساتذہ نے اسے جامعہ سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا، کیوں کہ سب اس کی حرکتوں سے تنگ آ چکے تھے لیکن اس فیصلے پر آخری رائے علامہ ابن باز کی لینی باقی تھی، تمام اساتذہ اس مسئلہ کو لے کر ان کے پاس پہونچے اور سب نے مل کر کہا محترم ! اس طالب علم کی وجہ سے جامعہ کا ماحول خراب ہورہا ہے، کئی بار ہم لوگوں نے اپنے طور پر چاہا کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آ جائے، اپنے اندر تبدیلی پیدا کر لے، لیکن وہ اپنی عادت سے باز آنے کا نام نہیں لیتا، دن بدن اس کی شرارتیں بڑھتی ہی جا رہی ہیں، اگر اسے جامعہ سے نکال باہر نہ کیا گیا تو آنے والے وقت میں حالات اور بھی پیچیدہ ہو سکتے ہیں، اسی لیئے آپ اس کے بارے میں ہم لوگوں کی رائے کو مان لیجئے، اور اس طالب علم کو باہر کا راستہ دکھا دیجئے، تا کہ جامعہ کے اندر امن و امان کی فضاء قائم ہو.

علامہ ابن باز نے اساتذہ کی بات سننے کے بعد فوراً ہنگامی اجلاس طلب کیا اور اس طالب علم کو بھی علامہ کی خدمت میں حاضر کیا گیا، وہ دل ہی دل یہ سوچ رہا تھا کہ شاید یہ اس کا آخری دن ہے کیونکہ معاملہ بہت آگے تک بڑھ گیا ہے، لیکن اس وقت اس کی حیرت کی انتہاء نہ رہی جب اس نے دیکھا

 کہ وقف کے مایہ ناز محقق، بے پناہ شہرت وعزت کے حامل علامہ ابن باز کھڑے ہوئے اساتذہ سے مخاطب ہو کر اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد کہا: بھائیو! اسلام ایک سیدھا دین ہے ہم خیر امت ہیں، ہم ایک ایسی قوم ہیں جس کی پیدائش کا مقصد ہی دنیا کو غلط راستے سے ہٹاکر سیدھا راستہ دکھانا ہے، ہم اس دنیا میں دین سے دور لوگوں کو ہدایت کی طرف بلانے کے لیئے بھیجئے گئے ہیں، جس طالب علم کے بارے میں آپ لوگ ہمارے پاس شکایت لے کر آئے ہیں وہ نہ تو میرا رشتہ دار ہے اور نہیں اس سے مجھے کوئی ناجائز ہمدردی ہے، بس میں اتنا جانتا ہوں کہ یہ قوم کا ایک فرد ہے، جس کا ضائع ہو جانا افسوس کی بات ہو گی، یہ اپنے والدین کو چھوڑ کر سات سمندر پار علم حاصل کرنے آیا ہے ممکن ہے شیطان کے بہکاوے میں مبتلا ہو کر اس نے ایسی حرکتیں کی ہوں گی جو جامعہ کے نظام کے خلاف ہوں، یا جس سے آپ لوگوں کی عزت پہ حرف آتا ہو لیکن ذرا مجھے بتائیے کہ ہم تمام لوگ جن کے سینوں میں اسلام کی سربلندی اور اللہ کے پیغام کو عام کرنے کے لیئے ارمان مچل رہے ہیں کیا ہمارا ایمان اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ سارے لوگ مل کر بھی ایک بچے کی اصلاح نہیں کر سکتے؟ کیا ہمارے اندر سے استقامت اور صبر کا جذبہ ختم ہو گیا ہے؟

علامہ ابن باز بولتے بولتے جذباتی ہو گئے اور ان کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے، لبوں پہ تھرتھراہٹ پیدا ہو گئی، علامہ کی یہ کیفیت دیکھ کر وہاں پہ موجود تمام اساتذہ کے آنکھیں بھی بھر آئیں، وہ طالب علم بہت شرمندہ ہوا اور علامہ کی بات سن کر رونے لگا، چند لمحات تک پوری مجلس میں خاموشی چھائی رہی اس کے بعد سبھی اساتذہ کھڑے ہوئے اور سب نے مل کر بیک زبان کہا کہ محترم! ہم لوگوں نے جذبات میں غلط فیصلہ کرلیا ہے، یہ طالب علم جامعہ میں ہی رہے گا

 ہم تمام لوگ آپ سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ اس کو پورے طور پر ایک نیک انسان بنا دیں گے جہاں تک ممکن ہو گا اس کی اصلاح کی کوش کریں گے۔

اس واقعہ کو گذرے ہوئے ٢٠ سال کا طویل عرصہ بیت گیا اس بیچ کتنے طالب علم آئے گئے، جامعہ کی پچھلی تمام یادیں ماضی کا حصہ بن کر رہ گئیں، اس طالب علم کو فراغت حاصل کر کے نکلے ہوئے بھی زمانہ گذر گیا ٢٠ سال کی لمبی مدت کے بعد علامہ ابن باز افریقہ تشریف لے گئے، وہاں کے مختلف تاریخی جگہوں کو دیکھا وعظ و نصیحت کا سلسلہ ہر جگہ جاری رہا اسی بیچ ان کا گذر ایک ایسی جگہ سے ہوا جہاں کا چپہ چپہ مسلمانوں کی شان و شوکت کا گواہ تھا، ہر طرف ٹوپی کرتا میں ملبوس لوگ سڑکوں پہ نظر آ رہے تھے، بلند و بالا مسجدوں سے آتی ہوئی اذان کی آوازیں اس پورے علاقے کو ایمان کی روشنی سے منور کئے ہوئی تھیں، گھروں سے قرآن کی تلاوت کی صدائیں صاف سنائی دے رہی تھیں، علامہ ابن باز کے ساتھ جو لوگ ان کی رہنمائی کر رہے تھے، انہوں نے بتایا کہ محترم یہ پورا علاقہ کبھی کفر کا گہوارہ تھا، مختلف قسم کی بدعتیں یہاں رائج تھیں، لوگ روح پرستی اور جادو ٹونے کے اسیر تھے۔بدتہزیبی اور غیر انسانی رسومات کاشکارتھے۔ ایک خدائے واحد کی پرستش چھوڑ کر لوگ اپنی من مانی زندگی گذار رہے تھے لیکن سالوں قبل کی بات ہے کہ ایک عالم دین یہاں آئے انہوں نے کمر توڑ کوشش کی، لوگوں کو ایک اللہ کی عباد ت کی طرف بلایا، خرافات وبدعات کی بد انجامی سےڈرایا،سکون و اطمینان کو ترسے یہاں کے باشندوں نے جب اسلام کا پیغام سنا تو ماضی کی تمام خرافات سے توبہ کر کے اسلام قبول کرتے گئے، اور آج الحمدللہ ! یہ بستی ہی نہیں پورا علاقہ اسلام کی روشنی سے جگمگا رہا ہے! علامہ نے پوچھا کہ کیا وہ عالم دین ابھی حیات سے ہیں؟ پتہ چلا کہ کچھ دور کے فاصلے پر جہاں لوگوں کا ہجوم ہے دور دراز مقامات سے لوگ ڈھیروں مسائل لے کر آتے ہیں، وہ ہر وقت ان کے مسائل کا تشفی بخش جواب دیتے ہیں، وہ وہیں پہ موجود ہوں گے، علامہؒ نے اسلام کے اس داعی سے ملنے کی خواہش ظاہر کی چند لوگوں کے ساتھ ان کے پاس پہنچے، جیسے ہی اس داعی کی نگاہیں علامہ  پر پڑیں تو وہاں پر موجود تمام لوگوں نے جو منظر دیکھا اس سے سبھی لوگ حیران رہ گئے انہوں نے کیا دیکھا کہ جیسے ہی علامہؒ دعوت و تبلیغ کرنے والے اس عالم دین کے پاس پہنچے تو وہ علامہ کو دیکھتے ہی دوڑتے ہوئے آئے اور ان کے گلے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے، علامہ چونکہ نابینا تھے ان کو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ معاملہ کیا ہے؟

بالآخر اس عالم دین نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے اپنا تعارف پیش کیا اور کہا کہ محترم ! ممکن ہے آپ کو یاد نہ ہو میں وہی طالب علم ہوں جو آج سے بیس سال پہلے آپ کی مہربانی کی بنا پر جامعہ مدینہ سے نکلتے نکلتے بچ گیا، اور میرا مستقبل تاریکی سے محفوظ رہا، آپ کی نصیحتوں کا ہی اثر ہے کہ اللہ نے مجھے اس لائق بنا دیا کہ آج لوگ امنڈتے ہوئے سیلاب کی طرف میرے ہاتھوں اسلام قبول کر رہے ہیں ۔ مسلمان بھی شرک اور بدعات و خرافات سے توبہ کرکے توحیدوسنت اور صراط مستقیم کے راہی بن رہے ہیں۔پورا علاقہ اللہ کی وحدانیت سے گونج رہا ہے یہ سن کر علامہ نے انہیں ڈھیر ساری دعاؤں سے نواز ا اور کہا بیٹا! زندگی کے آخری سانس تک اسی طرح اپنے مشن میں لگے رہنا کیوں کہ: *یہ دنیا کی زندگی تو بس دھوکے کا سامان ہے اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے اور جو تم کر رہے ہو یہ آخرت کی سب سے اچھی تیاری ہے.*

 

دوستو! یہ واقعہ بتلاتا ہے کہ کسی بھی ادارے کے ذمہ دار کو علامہ ابن باز ہی کی طرح دریا دل ہونا چاہئیے آج بہت سارے اداروں میں چھوٹی چھوٹی غلطیوں کے سبب بچوں کو نکال کر ان کی زندگی کو تباہ کر دیا جاتا ہے بلا شبہ اس طرح کا فیصلہ بہتر نہیں کہا جا سکتا ہے، کیوں کہ ادارے سے باہر کر دینا بہر صورت ایک بڑا قدم ہے، دیکھا جاتا ہے کہ ایسے حالات میں ذہنی دباؤ کے شکار ہو کر جذبات میں بعض بچے یا تو پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں یا ایسی راہوں کا انتخاب کر لیتے ہیں، جو ایک بامقصد زندگی جینے والے انسان کا راستہ نہیں ہوتا، اسی لیئے اداروں کے ذمہ داران کو ایسے فیصلوں سے بچنا چاہئے انہیں یہ سوچنا چاہئے کہ بچے کسی بھی قوم کے معمار ہوتے ہیں، ایک طالب علم اگر بہتر ہو جاتا ہے، نیک بن جاتا ہے اپنے اندر قابلیت پیدا کر لیتا ہے تو وہ جدھر بھی جائے گا علم کی روشنی پھیلاتا جائے گا

اس سے ایک زمانے کو روشنی ملتی رہے گی اور اس کی کامیابی کا سہرا اسی ادارے کے ہی سر ہو گا جس کے علمی ماحول نے اسے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے.

اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ دیں۔  آمین

منقول